ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کے بعد ایران کے بعض زمینی علاقوں پر کنٹرول کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ریاست میری لینڈ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید فوجی اور معاشی مشکلات سے گزر رہا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ میں اضافے سے یہ مطلب ہرگز نہیں لیا جانا چاہیے کہ فوجی کارروائی کے امکانات مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔
ٹرمپ نے موقف اپنایا کہ تہران معاہدے کا خواہشمند تو ہے لیکن ایک مناسب اور درست معاہدے پر آمادہ نہیں دکھائی دیتا۔
جب صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا ایران کے حوالے سے امریکہ کے پاس فوجی اقدامات کا اختیار محدود ہو گیا ہے، تو امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس کا سادہ سا مطلب یہ ہے کہ ہم حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس اہم سمندری گزرگاہ سمیت پورے علاقے اور اس کے ساحلی اور زمینی حصوں تک امریکی اثر و رسوخ قائم ہے۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ موجودہ تناؤ کے تناظر میں واشنگٹن ’صبر اور انتظار‘ کی حکمت عملی اپنائے ہوئے ہے۔
